Share |

 

بلوچستان کا منشور آزادی

دیباچہ

بلوچوں کے آبائی وطن کو بلوچستان کہا جاتا ہے لیکن آج تک بلوچ اپنے وطن کے مالک نہیں ہیں۔ اذیت رساں واقعات کا ایک سلسلسہ – جو انیسویں اور بیسویں صدی کی فاتحانہ سامراجی جنگوں سے کسی طرح بھی کم نہیں – نے بلوچستان کے قدرتی فروغ کو مسخ کیا اور بلوچوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرنے سے روکے رکھا۔

تاہم بلوچستان کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ 1666ء تھا، جب مختلف بلوچ اتحادیوں کو اکٹھا کیا گیا اور ایک بلوچ قومی ریاست تشکیل دی گئی۔ قومی اتحاد کے اس لمحے سے، بلوچ قوم نےاپنے ہمسایوں اور دیگر سے باہمی سفارتی تعلقات استوار کیے۔

بلوچستان کی تاریخی اور سماجی سیاسی سرحدیں اٹھارویں صدی میں بلوچ سیاسی قائد اور حاکم میر نصیر خان بلوچ جنہیں نوری نصیر خان1749) تا (1794 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کی جانب سے خاکہ کشی کی گئیں۔


برطانوی سلطنت 13 نومبر 1839ء کوخود مختار ریاست بلوچستان پر حملہ آور ہوئی۔'تقسیم کرو اور حکومت کرو' کی برطانوی نوآبادیاتی پالیسی کےنتیجہ میں بلوچستان آئندہ کے لیے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ۔ 1871ء میں ایک ثالثی لکیر گولڈ سمڈ لائن کھینچی گئی جس کے تحت بلوچستان کا مغربی حصہ خاندانِ قاجار کو دے دیا گیا۔ 1893ء میں ایک دوسری لکیر ، ڈیورنڈ لائن کھینچی گئی۔ اس لائن کے تحت بلوچستان کا شمالی حصہ افغانستان کو دے دیا گیا۔ یہ بناوٹی سرحدیں بلوچ قوم کی رضامندی، مفاد اور بہبود کے خلاف کھینچی گئیں۔

مغربی بلوچستان میں قاجار سلطنت کی مدت نسبتاً کم عرصہ رہی۔ بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اِس خاندان نے بلوچستان میں اپنا تسلط کھودیا ۔ برطانیہ نے 1916میں بلوچ سیاسی رہنماؤں کو کھلے بندوں مغربی بلوچستان کے حکمرانوں کے طور پر قبول اور تسلیم کر لیا۔ 1928 میں ایرانی فوج نے رضا خان کی قیادت میں ایک مرتبہ پھر حملہ کر کے مغربی بلوچستان پر تسلط جما لیا۔

اس کے باوجود بلوچ قوم نے کبھی بھی اپنی آزادی کی جدوجہد میں کمی نہیں آنے دی۔ برطانیہ سے دوبارہ مکمل آزادی حاصل کرنے کے لیے قومی سطح پر منظم سیاسی جدوجہد کا آغاز 1920 کی دہائی کے اوائل ہی سے ہو گیا تھا۔ بلوچ قوم کی لازوال کوششوں کے نتیجے میں انگریزوں کے مشرقی بلوچستان سے خروج کے بعد بلوچستان 11 اگست 1947 کو آزاد ہو گیا تھا۔ بلوچستان کی آزادی کا اعلان نئی دہلی میں کیا گیا تھا اور اس کی خبر 12 اگست 1947 کو دی نیویارک ٹائمز میں چھپی تھی۔ بلوچستان کے ایوان زیریں نے اپنے 12 سے 15 دسمبر 1947 کے ہونے والے اجلاس میں متفقہ طور پر بلوچستان کی آزادی کے اعلان کو منظور کیا تھا؛ بلوچستان کے ایوان بالا نے بھی 2 جنوری سے لے کر 4 جنوری 1948 تک ہونے والے اپنے اجلاس میں ایوان زیریں کے اس فیصلے کی توثیق کی تھی۔

پاکستان کی مصنوعی طور پر بنائی گئی اسلامی ریاست 14 اگست 1947 کو وجود میں آئی تھی۔ یہ نئی مملکت پاکستان اپنے قیام کے پہلے دن سے ہی بلوچستان کی خود مختاری کے لیے خطرہ بنی رہی اور اپنے قیام کے آٹھ ماہ کے اندر اندر پاکستان نے 27 مارچ 1948 کو بلوچستان کی خود مختار ریاست پر زبردستی قبضہ کر لیا۔

یہ قبضہ لوگوں کے آزادی اور حق حکمرانی کے بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ نظریات کے منافی تھا۔ اور ان حقوق کا ادراک اس قبضے کے پیچھے ہونے والی ناانصافی کی وجہ سے بلوچ عوام اب استعماری طاقتوں کے خلاف ایک مشترکہ مہم کی صورت میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ ان کی جمہوری جدوجہد زور پکڑ رہی ہے اور ایک تاریخی موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ بلوچ عوام کے اندر اپنے اس پیدائشی حق کا احساس بڑھتا جا رہا ہے.
اجتماعی طور پر اب وہ اس حقیقت کو سمجھنا شروع ہو گئے ہیں کہ یہ تسلط اور ظلم اب ان کی بقاء ہی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے اور اس سے ان کے محبوب قوم کا منظم طور پر خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اگراس تسلط کے خلاف مزاحمت نہ کی گئی تو ان کی اہمیت کم ہوتی چلی جائے گی اور وہ اپنے آبائی وطن ہی میں ایک اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔
غیر ملکی ریاستوں کے زیر تسلط بلوچستان کی معیشت، اس کا معاشرہ اور اس کے سیاسی، تعلیمی اور قانونی ادارے تباہ کن حد تک پسماندگی کا شکار رہے ہیں۔ یہ نئے نوآبادیاتی حکمران بلوچوں کی گذشتہ نسلوں کی علم اور بصیرت کو بالائے طاق رکھ کر اپنے نظریات کو بلوچستان پر ٹھونس رہے ہیں۔ ان اقدامات نے بلوچستان کی ثقافت، زبان، ادب، میڈیا، موسیقی، فنون لطیفہ اور اخلاقی و سماجی اقدار کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس تسلط اور جبر کی وجہ سے حکمرانوں کو لوگوں کے استحصال کا موقع ملا ہے اور اس نے بلوچستان کی سول سوسائٹی کے اپنے آزادانہ ارتقاء کو روک رکھا ہے۔ مزید براں قابض طاقتوں نے تمام بلوچستان کو ایک وسیع و عریض فوجی چھاؤنی اور لاتعداد ریاستی جیل خانہ جات کی سرزمین بنا کر رکھ دیا ہے۔ اور اس عمل کے دوران بلوچستان درآمد کردہ جہادیوں، مذہنی جنونیوں، اور ریاست کی حمایت یافتہ بے اصول لٹیروں کی آماجگاہ بن گیا ہے۔ حملہ آور ریاستوں کے یہ پروردگان پوری دیدہ دلیری سے کام کر رہے ہیں اور جس کسی کو چاہیں ظلم کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کی غیر قانونی طاقت مطلق العنان ہے۔ وہ لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں، گولیاں مار رہے ہیں، جیل میں ڈال رہے ہیں، تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور قتل کر رہے ہیں۔
ان کا نشانہ بننے والوں میں بلوچ معاشرے کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ، باشعور اور فعال ارکان شامل ہیں۔ ان نشانہ بننے والوں میں بلوچ طلباء، مزدور، کسان، تاجر، ادیب، موسیقار، ڈاکٹر، مذہبی علما، اساتذہ، یونیورسٹی کے پروفیسران اور سیاسی رہنما شامل ہیں۔ حتٰی کہ ان کی ظالمانہ انتقامی کاروائیوں سے بلوچستان کے ضعیف العمر لوگ اور بچے بھی محفوظ نہیں۔ بلوچستان کے سیاسی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں پر قرون وسطٰی کا سا تشدد کیا جا رہا ہے۔ بہت سے بلوچ اس ظلم کا شکار ہو کر صفحہءِ ہستی سے غائب ہو گئے ہیں۔ ان کے خاندانوں اور دوستوں کے پاس ایک دائمی رنج، خوف اور روحانی اذیت کی فضا میں رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
لیکن اس پرخوف مسلط ہونے کے باوجود بلوچ قوم کی روایات اسی طرح تابندہ ہیں اور آج کے بلوچ معاشرے میں رچی بسی ہوئی ہیں۔ سیکولرزم، اعتدال پسندی، روشن خیالی، آزاد خیالی اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور پر امن رہنے کا مزاج جیسے بنیادی عناصر بلوچ قوم کی سماجی اور اخلاقی اقدار کا خاصہ ہیں۔ بلوچ قوم بنیادی طور پر ایک سیکولر قوم ہے، جو مختلف النوع خیالات اور عقائد رکھنے کی اجازت دیتی ہے اور ان کا احترام کرتی ہے۔ زندگی اور آزادی کے حق کا تقدس بلوچ روایات کا ایک اہم ترین جزو ہیں۔ اور حکومت کی طرف سے دی گئی سزائے موت بلوچوں کے اخلاقی اور سیاسی نظام کا حصہ کبھی بھی نہیں رہی۔ با الفاظ دیگر بلوچ عوام میں وہ تمام خصوصیات اور اقدار موجود ہیں جو ایک متحرک، مہذب جمہوری اور روشن خیال معاشرے کے فروغ کے لیے ضروری ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بلوچوں کی سرزمین قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ گزرگاہ ہے جو مشرق بعید اور جنوبی ایشیا کو مشرق وسطٰی اور وسطی ایشیا سے ملاتی ہے۔ بلوچستان مذکورہ بالا دولت مند اور وسیع علاقوں کے درمیان اشیاء کے تبادلے کے ڈپو کے طور پر کام کرسکتا ہے۔ ان اور دیگر علاقوں کے درمیان بین الاقوامی تجارت کے لیے بلوچستان کے ساحل پر واقع لا تعداد بندرگاہوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں اس ساحل کو ماہی گیری اور سمندری غذا کی فارمنگ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بلوچستان کی وسیع سرزمین کو جانوروں کی پرورش، زراعت اور صنعت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی آب و ہوا شمسی، ہوائی اور سمندری توانائی پیدا کرنے کے لیے موزوں ہے۔ معاشی وسائل کے بہت سارے مظاہر بلوچستان کی تیزی سے ترقی کرنے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ اس کے معاشی امکانات کے مقابلہ میں اس کی کم آبادی کی وجہ سے بلوچستان بہت جلد انتہائی خوشحال علاقوں میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک آزاد اور جمہوری حکومت کے تحت بلوچستان نسبتاً کم وقت میں اس علاقے کے انتہائی جدید، خوشحال اور جمہوری اقوام میں شامل ہو سکتا ہے۔

کوئی وجہ نہیں کہ بلوچستان کے منفرد محل وقوع، اس کے بھرپور قدرتی وسائل اور سیکولر کلچر کی موجودگی میں اس کی معیشت جمود کا شکار رہی۔ غیر قانونی تسلط بلوچستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اگر اس کے باشندے اس تسلط سے آزاد ہوتے تو سماجی، سیاسی اور قانونی شعبوں میں اس کی ترقی با آسانی اس کے ہمسایہ ملکوں سے کہیں زیادہ ہوتی۔
کسی بھی غیر قانونی تسلط اور محکومی سے آزاد ہو کر اپنی قسمت، اپنے آج اور مستقبل کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے بارے میں خود فیصلہ کرنا بلوچستان کے لوگوں کا حق ہے۔ کوئی بھی باخبر، انصاف پسند اور جمہوری اقدار پر یقین رکھنے والا بلوچ کبھی بھی اپنی مرضی سے کسی نوآبادیاتی طاقت کے تحت محکوم رہنا پسند نہیں کرے گا۔ ہر بلوچ کو اپنے ہی وطن میں دوسرے درجے کا شہری ہونے کی ذلت سے سابقہ پڑا ہے۔
اب ہم اپنے لوگوں کو محکومی سے نجات دلانے اور ان کے لیے مکمل آزادی حاصل کرنے کےاور دنیا کی تمام آزاد قوموں کی صفوں میں مساوی بنیاد پر شامل ہونے کی اپنے اس عزم میں متفق ہیں۔
مکمل آزادی حاصل کر کے اور بلوچستان کو دوبارہ سے ایک جمہوری ریاست بنا کر ہی بلوچستان کے ہر شہری کے مکمل حقوق کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ یہ منشور وہ لائحہ عمل ہے جس پرعمل کر کے ہم اپنی قوم اور اپنے وطن کے لیے اس عظیم مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔

آزادی، جمہوریت اور انصاف


اس منشور میں ان شقوں کے علاوہ جن کا تعلق بلوچستان کی آزادی اور آزادی کے بعد ایک شخص ایک ووٹ کی بنیاد پر مبنی ایک جمہوری نظام کی بحالی سے ہے، باقی تمام شقوں میں ترمیم، تجاویز اور مزید بہتری لانے کی گنجائش ہے۔

حصہ اولI
بنیادی حقوق


شق: 1 – چونکہ بلوچستان پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا تھا لہذا ایک آزاد اور جمہوری بلوچستان کے لیے آزادی کی جدوجہد قانونی اور جائز ہے۔

شق: 2 – بلوچوں کی قومی جدوجہد، زندہ رہنے کے حق، تحفظ ، بقاء اور معاشرے کے تمام اراکین کے لیے مساوی حقوق کے اصول پر عمل پیرا ہونے جیسے بنیادی اصولوں پر عمل درآمد کے لیے ہے۔

شق: 3 – بلوچ قومی جدوجہد میں ہر شخص کی اخلاقی برتری ازخود ایک مقصد ہے نہ کہ یہ کسی اور مقصد کےحصول کا ایک ذریعہ ہے۔ اس بناء پر تمام افراد برابر ہیں۔

شق: 4 – بلوچ قومی جدوجہد ایک سیکولر تحریک ہے۔ یہ مذہب کو ریاست اور سیاست سے الگ رکھنے کے حق میں ہے۔ یہ معقولیت کے حق میں ہے اور کسی کٹر مذہب یا نظریاتی عقیدے کے خلاف ہے۔

شق: 5 – مذہب، عقیدے اور اظہار کی آزادی بلوچستان کے شہریوں کے سب سے بنیادی حقوق کا حصہ ہیں۔ ہر شخص آزاد ہے چاہے وہ کوئی مذہب اختیار کرے یا کسی غیرروایتی عقیدے پر عمل پیرا ہو بشرطیکہ اس طرح کرنے میں وہ نہ تو اپنے مذہب اور عقیدے کو دوسروں پر تھوپیں اور اس طرح سے دوسرے لوگوں کی مختلف عقیدہ رکھنے کی آزادی میں خلل انداز ہوں-

شق: 6 – بلوچ جمہوری جدوجہد حقیقی معنوں میں خود مختاری و آزادی کے لیے ہے۔ یہ اس حقیقت کومانتی اور سمجھتی ہے کہ انسانی تخیل کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ اس قابل قدر انسانی خصوصیت کو انسانیت کی انتہائی اہم خصوصیات میں سے گردانتی ہے۔ انسانی فطرت کی یہ خاصیت آزاد سوچ اور اظہار کی روح اور وجہ ہے۔ ہم اس انسانی صلاحیت کی قدر کرتے ہیں اور اس کو ایک آزاد اور کھلے معاشرے میں پروان چڑھانے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ تخیل کی صلاحیت کسی کے وجود سے الگ نہیں کی جا سکتی- ہر قسم کی اندھی بنیاد پرستی، جو انسانی تخیل اور غوروفکر پر قدغن لگائے چاہے وہ کسی بھی ظالمانہ ذریعے سے ہو، انسانی فطرت اور ان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ اس لیے، بلوچ جمہوری جدو جہد آزاد تخیل، سوچ اور اظہار کے حق کو اپنی سب سے اہم ترجیحات میں رکھتی ہے۔
شق: 7 – انسانی تخیل کے اس لازوال افق کی فطرت کے باعث ہی سمجھ بوجھ، آراء اور عقائد میں تنوع ہوگا۔ صرف اس بنا پر ہی، بلوچستان کے شہریوں کی سوچ اور اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی، ان کے بنیادی حقوق اور انصاف کے خلاف ہوگی۔

شق: 8 – مردوں اور عورتوں کے مابین مساوات بلوچ جمہوری جدوجہد کے بنیادی اصول میں سے ایک ہے۔ ایک آزاد اور جمہوری بلوچستان میں مردوں اور عورتوں کو برابری کا درجہ دیا جائے گا اور وہ قانون کے تحت تمام حقوق، تحفظات اور آزادیوں کے حقدار ہوں گے۔ یہ مساوات معاشرے کے تمام حلقوں میں سماجی، معاشی، تعلیمی، معاشرتی، ثقافتی اور سیاسی حقوق میں ہو گی۔

حصہ دومII
جدوجہد کے جامع طریقے


شق: 9 – بلوچ قومی جدوجہد برائے آزاد و جمہوری بلوچستان میں سب کو شامل کرنا ہے۔ یہ بلوچستان اور بلوچستان سے باہر رہنے والے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کے لیے ہے۔ اس میں سیاسی تعلق، نسلی پس منظر یا نظریاتی اور مذہبی عقیدے سے قطع نظر تمام آزادی پسند مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

شق: 10 – آزادی کے لیے بلوچ جدوجہد مختلف طریقوں کا مجموعہ ہے- اس میں ایک آزاد اور خود مختار بلوچستان کے حصول کے لیے بلوچ یا بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے ہرطرح کی مدد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یہ جدوجہد پارٹی سیاست، اور ٹریڈ
یونینز، طلباء تنظیموں، خواتین کی انجمنوں، ادیبوں کی انجمنوں، وکلاء کی انجمنوں، صحافیوں کی انجمنوں، کسانوں کی انجمنوں وغیرہ جیسی منظم انجمنوں اور تنظیموں کے ذریعے ہوگی۔ اس میں پریشر گروپ؛ انسانی حقوق کے علمبردار، ماحولیات سے متعلقہ لوگ ، جدوجہد کے دوران شکار ہونے والے افراد کے اہل خانہ، جوہری ہتھیاروں کے خلاف جدوجہد کرنے والے، جنگوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے اور سول نافرمانی اور جدوجہد کے وہ طریقے جو کہ خود حفاظتی اقدام کے طور پر اختیار کیے جاتے ہیں، شامل ہوں گے۔

شق: 11 – قابض ریاستوں کی جعلی پارلیمنٹ میں شامل ہونا اس منشور کی روح کے خلاف ہے۔ سامراج کی مرضی کے ان سامراجی اداروں میں حصہ لینا ہماری آزادی کےحصول کی جدوجہد میں رکاوٹ بنے گا۔ اس لیے کوئی فرد یا سیاسی تنظیم جو اس منشور کو منظور کرتی ہے وہ پاکستانی یا ایرانی جعلی پارلیمانی نظام میں شامل نہیں ہوسکتی۔

شق: 12 – آزادی کے لیے کی گئی ہر قسم کی جدوجہد بین الاقوامی قوانین کی حدود کے اندر اور انسانی حقوق کی روایات کے عین مطابق ہو گی۔
حصہ سومIII
سیاسی نظام کا جواز

شق: 13 – بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد کا منتہائے آخر بلوچ قوم کی قسمت کو بلوچ عوام کے ہاتھ میں دینا ہے۔

شق: 14 – بلوچستان میں نافذ سیاسی نظام کا قانونی اور اخلاقی جواز بلوچستان کے آزاد لوگوں کے فیصلے ہوں گے جن کا اظہار وہ آزاد اور جمہوری طورپر منعقدہ عام انتخابات میں کریں گے، جن کی نگرانی اقوام متحدہ اور دیگر آزاد ادارے کریں گے اور جن کا مشاہدہ قومی و بین الاقوامی میڈیا کرے گا۔

شق: 15 – بلوچستان میں کسی بھی سیاسی نظام کا اس وقت تک کوئی اخلاقی بنیاد اور قانونی جواز نہیں ہے جب تک وہ غیر قانونی قبضے سے آزاد نہیں ہوتا۔ بلوچستان میں نمائندہ جمہوریت اور عوام کی حکمرانی کو صرف اس وقت قانونی جواز ملے گا جب عوام سیاسی طاقت کو استعمال کریں گے اور یہ صرف بلوچ عوام کے نام پر استعمال نہیں ہوگی۔

شق: 16 – قابض طاقتوں کا بنایا ہوا سیاسی قوت کا ڈھانچہ بلوچستان کے شہریوں کی آزاد منشا کی نفی کرتا ہے نہ کہ اس کی عکاسی کرتا ہے۔ اس طرح کا ظالمانہ سیاسی نظام آزادی اور جمہوریت کے منافی ہے۔

شق: 17 – غلامی میں جمہوریت کی واضح دوغلاپن کو صرف محکوم قوم کو غیر قانونی قبضے سے نجات دلا کر ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ جب تک بلوچستان موجودہ نوآبادیاتی، جغرافیائی و سیاسی حد بندیوں اور قواعد میں مقید رہے گا، جمہوریت، انصاف اور انسانی حقوق کا احترام صرف کھوکھلے نعرے ہی ہوں گے

شق: 18 – سماجی اور سیاسی حقوق صرف اس قوم کے لیے بامعنی ہوتے ہیں جس پر غیرقانونی قبضہ نہیں ہوتا اور جہاں شہری جمہوریت پسند بننا چاہتے ہیں اور اپنی مرضی سے خود کو اس سیاسی اقتدار کے حوالے کرتے ہیں، جو باہر سے مسلط نہیں کیا جاتا۔

شق: 19 – تاریخی ناانصافیوں اور استحصال سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کی جا سکتی۔ کسی طرح کا حکومتی نظام بھی ان تمام ناانصافیوں کا تدارک نہیں کر سکتا جو ایک قوم کے ساتھ ماضی میں کی گئی ہوں۔ البتہ آزادی، انسانی حقوق، سماجی انصاف، یکساں مواقع کی فراہمی، اور معاشی قابلیت کے اصولوں پر چلنے والا ایک جمہوری سیاسی نظام ہی وہ نظام ہے جو بلوچستان میں قابل عمل ہو سکتا ہے۔

حصّہ IV
بامعنی جمہوریت اور امن


شق: 20– ایک بامعنی جمہوریت کی یقینی ذمہ داری لینے کیلئے، ایک لازمی شرط ایک جمہوری ماحول کی فراہمی ہے۔ اس کا مطلب ہے دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ ایک آزاد میڈیا اور صحافت، خود مختار اور آزاد عدلیہ، آزاد اسمبلیاں اور ایسوسی ایشنز، معاشی مواقع میں برابری، موزوں تعلیم اور کثیر الجماعتی سیاست۔ ایک بامعنی جمہوریت اس وقت تک نافذ نہیں کی جاسکتی جب تک کہ ایک قوم کا معاشرہ، تہذیب، سیاست، قانون، اخلاقیات، زبان، معیشت اور ماحولیات ایک معاندانہ نوآبادیاتی قوّت کے شکنجے میں ہو۔ ان لازمی اجزاء کی غیر موجودگی میں جمہوریت فرضی سی رہتی ہے اور اس کو فوجی تسلط کے غلبہ کو چھپانے کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

شق: 21– قابض ریاستوں کی تحویل میں موجود تمام بلوچ سیاسی قیدیوں کو فوری اور غیرمشروط طور پر رہا کیا جانا چاہیئے۔

شق: 22– بلوچستان کے تمام گمشدہ افراد کے انجام کی تفتیش کرنے اور اِن جرائم کے مرتکب ہونے والوں کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے یو این او اورقومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی زیرِ نگرانی ایک کمیٹی بنائی جانی چاہیئے۔
شق: 23– تنازعہ کا حل کیا جانا
A) جیسا کہ بلوچستان پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا گیا ہےتمام قابض قوّتوں کو بلوچستان سے غیر مشروط طور پر نکل جانا چاہیئے۔ ورنہ یہ بین الاقوامی معاشرے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ غیر قانونی قبضہ کو ختم کرنے کیلئے بلوچستان میں مداخلت کریں۔
B) قابض قوّتوں کے نکل جانے کے بعد، عالمی برادری کو چاہیئے کہ سرحدوں کو محفوظ بنانے اور سیاسی اور قانونی اداروں کے قیام کیلئے بلوچستان کی معاونت کرے۔
C) بلوچستان کی عبوری حکومت 24 ماہ کے اندر عام انتخابات منعقد کرے گی اور سیاسی اقتدار بلوچ قوم کے منتخب نمائندوں کو منتقل کر دے گی۔

شق: 24– تمام بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی ایجنسیوں کو لازمی طور پرمقبوضہ بلوچستان کے تمام حصّوں تک بلا روک ٹوک رسائی فراہم کیا جانا چاہیئے۔

شق: 25– آزادی کی مزاحمتی تحریکوں اور مسلح تصادم کے حوالے سے قابض ریاستوں کے متعلق چوتھے جنیوا کنونشن میں طے کئے گئے اصولوں کا مکمل نفاذ ہونا چاہیئے۔

حصّہ V
آئینی قانون اور انصاف


شق: 26– عوامی جمہوریہِ بلوچستان ایک جدید سیکولر اور جمہوری آئین تیار کر کے اسے اپنائے گی

شق: 27– ایک آزاد بلوچستان میں آمرانہ سیاسی نظاموں کی تمام صورتوں کو، چاہے وہ کسی بھی نام سے ہوں، عزم واستقلال کے ساتھ اورمکمل طور پرمسترد کر دیا جائے گا۔

شق: 28– بلوچستان کا سیاسی نظام خصوصی طور پرشخصی آزادی، آزادیِ خیال و اظہار، ایک نمائندہ حکومت اور ایک خودمختار نظامِ عدل کے اصولوں پر مقرر کیا جائے گا۔ ان اصولوں کا حقیقی نفاذ اس چیز کو یقینی بنائے گا کہ بلوچستان کی خودمختار ریاست کو کسی قسم کی آمریت اور جامع نمائندگی کے بغیر سیاسی نظاموں سے بچایا جاسکے۔

شق: 29– قانون کی نظر میں برابری کا فرمان بلوچستان کےآئین کا ایک مرکزی قانون ہو گا۔ اس قانون کے مطابق کسی کو بھی قانون کی اجازت کے بغیرکسی شخص کی آزادی، نجی معاملات اور جائیداد میں دخل اندازی کرنے یا دھاوا بولنے کی اجازت نہیں ہوگا۔
شق: 30– عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری کے بغیر آزادی، انصاف، امن و امان کا رواج، خود مختاری، تحفظ، اظہارخیال کی آزادی اور انصاف نہیں ہو سکتے۔ نظام انصاف ‍‍‌‍‌‎چلائے جانے کیلئے، بلوچستان میں نظامِ عدل خود مختار رہے گا۔ کسی نظامِ عدل کی خودمختاری پابندی اور توازن کے نظام کار کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ استبدادیّت، جبر،غلط اور ناجائز انداز میں حکومت کے چلائے جانے اور ناانصافیوں کی روک تھام کرے گی اور قانون کے اندر آزادی کو یقینی بنائے گی۔

شق: 31– عدل اور انصاف کو یقینی بنائے جانے کیلئے بلوچستان میں قانون کی عدالتیں کھلے اور منصفانہ انداز میں کام کریں گی۔

شق: 32– ایک عوامی جمہوریہِ بلوچستان میں یہ چیز مقدم ترین اہمیت کی حامل ہے کہ ایک منصفانہ مواخذہ کے غیر مشروط اصول کا بول بالا کیا جائے اور اس کا تحفظ کیا جائے۔ غیر قانونی سرگرمی کے ہر ملزم کو ایک خود مختار اور غیر جانبدار ٹریبیونل کی جانب سے ایک منصفانہ سماعت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ گناہگار ثابت ہو جانے سے قبل بے قصور تصور کئے جانے کا اصول تمام ملزمان پر لاگو ہوتا ہے۔دفاع کو یقینی بنانے کی کم از کم ضمانتیں تمام ملزمان کو فراہم کی جائیں گی۔ ہر ملزم/ملزمہ کو اس کے مقدمہ پر ایک بالائی ٹریبیونل کی نظرِ ثانی کا حق حاصل ہے۔

شق: 33– قدرتی فطری عدل وانصاف بلوچستان کے نظامِ عدل کی بنیاد بنے گا۔ اس کے پہلے اصول کے مطابق کسی فرد کو اپنے ہی مقدمہ میں جج نہیں ہونا چاہیئے۔ ایک حقیقی اور منصفانہ عدلی فیصلہ پر صرف اس وقت ہی پہنچا جا سکتا ہے جب جج غیر جانبدار ہو۔قدرتی عدل کا دوسرا اصول یہ کہتا ہے کہ ہر کسی کو لازمی طور پر یہ حق حاصل ہونا چاہیئے کہ ان کی اپنے دفاع میں سماعت کی جائے۔ اگر ملزم کو اپنے حق میں سماعت کے حق سے محروم کیا جا رہا ہو تو یہ قدرتی عدل کے منافی ہو گا۔

شق: 34– بلوچستان میں ہر فرد کو ایک جیسے قانونی حقوق کے ساتھ تحفظ دیا جائے گا۔ قانون ان سب افراد کو مساوی تحفظ فراہم کرے گا جن کی قانون کے تحت اقدام کی آزادیِ کو پامال کیا گیا ہو۔ تحفظ کی ان جہتوں میں شامل ہوں گے
a ) حفاظتِ ذاتی، b) حملہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی یا سول اقدام، c) غلط گرفتاری، حبسِ بے جا کے خلاف چارہ جوئی کا حق، d) گرفتار کئے جانے کی صورت میں، ضمانت پر رہائی کا حق، اور پَروانہِ حاضریِ ملزم کا حق۔

شق: 35– زندگی کا حق ہر شخص کا لازم ترین بنیادی حق ہے اور اس کو کسی بھی شخص سے چھینا نہیں جا سکتا ہے۔سولی پر چڑھا کر سزائے موت، تشدد یا کسی بھی دیگر قسم کے غیر انسانی اقدام کے ذریعے ظالمانہ انداز میں کسی فرد کو زندگی سے محروم کر دیا جانا انسانیت کی روح، بلوچ اخلاقی ضابطےاوراقدار کےسخت منافی ہے۔ عوامی جمہوریہِ بلوچستان کے تحت یہ اقدامات کُلّی اور قطعی طور پر ممنوع ہوں گے۔

حصّہ VI
حق تلفی کے خلاف اور مساوی مواقع کے حق میں

شق: 36– ایک آزاد اور جمہوری بلوچستان کرپشن کے خلاف ایک مضبوط اور بلا سمجھوتہ نقطہِ نظر رکھے گا اور اس کو ہر سطح پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ہر کوشش کرے گا۔

شق: 37– ریاست کے ایک ذمہ دار آلہِ کار کو مؤثر اور فرض شناس انداز میں کام کرنے کیلئے اداروں کے ایک مستعد، شفاف اور قابلِ مواخذہ نظام کی تشکیل درکار ہوتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے کسی قومی یا مقامی حکومت کے سول ملازمین کا تقرر کھلے مقابلہ کے ذریعے میرٹ کے بنیاد پر کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ، سول ملازمین کو لازمی طور پر غیر سیاسی اور غیر جانبدار رہنا ہو گا۔ یہ چیز مختلف منتخب حکومتوں کے ساتھ غیر جانبداری کے ساتھ اور منصفانہ ذہن کے ساتھ کام کرنے کیلئے بجا ہے۔

شق: 38– ایک آزاد بلوچستان جنس، پسِ منظر، عقیدہ، عمر اورنسلی بنیاد پر کسی بھی امتیازی سلوک کے خلاف جدوجہد کی حمایت کرے گا۔ بلوچستان میں تمام نسلی اور مذہبی اقلیّتوں کو اپنے عقائد پر عمل پیرا ہونے اور اپنی زبانوں اور روایات کو برقرار رکھنے اور ان کا تحفظ کرنے کیلئے آبادی کے باقی حصوں کی طرح بالکل ایک ہی پیمانے پر ایک جیسے حقوق حاصل ہوں گے۔

شق: 39– تعلیم، صحت اور قانونی تحفظ تک رسائی کے حق کیلئے؛ ایک آزاد بلوچستان مساوی مواقع کے اصولوں پرعمل اور ان کے مطابق کام کرے گا۔ مساوی مواقع کے نفاذ کو ایک کھلے، شفاف اور قابلِ مواخذہ انداز میں بجا لایا جائے گا۔ اس کو خاندانی تعلقات، اقرباء پروری یا طرف داری کے بجائے انفرادی میرٹ کے اصول پر چلایا جانا چاہیئے۔

شق: 40– ریاستِ بلوچستان تعلیم کو اپنی چوٹی کی ترجیحات میں سے ایک بنائے گی۔ 16 سال کی عمر تک تعلیم لازمی اور مفت ہو گی۔ حکومتِ بلوچستان یہ یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے گی کہ ایک بامعنی تعلیمی نظام تمام بچّوں کیلئے دستیاب، قابلِ رسائی، موزوں اور اپنائے جانے کے قابل ہو۔ طلباء کی جسمانی اور ذہنی توقیر کے احترام کو فروغ دینے اور ان کی فطری استعدادوں، صلاحیتوں اور امکانی مواقع کی تعمیر کو ترجیح دی جائے گی۔

حصّہ VII
مابعدِ حصولِ آزادی

شق: 41– عوامی جمہوریہِ بلوچستان ایک سول، کھلی رواداری اور جمہوری معاشرہ ہو گا، جہاں تمام افراد کے ساتھ قانون کی حکمرانی میں برابری کے ساتھ پیش آیا جائے گا۔

شق: 42– بلوچستان کی ریاست کی بنیاد انسانی حقوق، آزادی، جمہوریت اور قانون کے بول بالا پر ہو گی۔ یہ جمہوری اور نجی آزادیوں کا تحفظ کرے گی بشمول آزادانہ ، کثیر جماعتی انتخابات، احتجاج کرنے کا حق، اظہارِ خیال اور صحافت کی آزادی، جیسا کہ یو این کے انسانی حقوق پر عالمی اعلامیہ اور سول اور سیاسی حقوق پر بین الاقوامی معاہدہ میں ان کا احاطہ کیا گیا ہے۔

شق: 43– بلوچستان میں ایک کُھلے اور شفاف انتخاب میں منتخب ہوئے بغیر کسی بھی حکومت کو جائز اور جمہوری نہیں ما نا جائے گا۔ کسی بھی سیاسی نظام کا اعلیٰ ترین اختیار بالاخر بلوچستان کے لوگوں کے ہاتھ میں رہے گا۔ صرف ایک پوشیدہ رائے دہی میں انتخاب ہی سیاسی اقتدارِ اعلیٰ کے جائز ہونے کا فیصلہ کرے گی۔

شق: 44– ایک آزاد اور خود مختار بلوچستان ایک آئینی پارلیمانی سیاسی نظام رکھنے کا عزم رکھتا ہے ۔ایک ایسا سیاسی نظام جو کہ آزاد سیاسی جماعتوں، ایک فرد ایک ووٹ کے اصول پر کئے گئے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے ساتھ ایک خودمختار قانونی نظام کے تحت کام کرے گا۔

شق: 45– بلوچستان کی قومی اسمبلی (بلوچستان مزنین دیوان) بلوچ قوم کا اعلیٰ ترین جمہوری اظہار ہو گا۔ قومی اسمبلی کے ممبران کو آزاد، کھلے اور شفاف انتخابات میں منتخب کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی بلوچستان کے مردوں اور عورتوں کا نمائندہ ڈھانچہ ہو گی۔

شق: 46– بلوچستان کی قومی اسمبلی سچ، انصاف اور بھروسے کا مینار ہو گی۔ یہ بلوچستان کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے جو کہ بلوچستان کے لوگوں کے جمہوری حقوق کو یقینی بنائے گا اور ان کا تحفظ کرے گا۔ یہ کسی قسم کے مطلق العنّان سیاسی نظام کے خلاف قلعے کا کردار ادا کرے گی۔

شق: 47– ایگزیکٹیو، وزیرِ اعظم اور وزراء کی کابینہ، سول سروس کے ساتھ مل کر، بلوچستان کی ریاست کی جانب سے کام کریں گے۔ یہ تمام ریاستی اہلکار اپنے اقدامات کیلئے بلوچستان قومی اسمبلی (بلوچستان مزنین دیوان) کو اوربالآخر بلوچستان کے لوگوں کو جواب دہ ہوں گے –

شق: 48– ایک کامیاب جمہوری سیاسی نظام کو ایک حکومت سےنو منتخب شدہ حکومت میں منتقلی کیلئے ایک مؤثر اور مستحکم راستہ درکار ہوتا ہے۔ جاری رہنے والا وہ عمل جو کہ بلوچستان میں ایک حکومت کے مستحکم انداز میں دوسری حکومت میں منتقلی کو ممکن بنائے گا وہ ہو گا
جہاں:
a) وہ سیاسی پارٹی حکومت بنائے جو قومی اسمبلی میں اکثریت پر قادر ہو
b) منتخب شدہ اسمبلی اپنی آئینی مدّت پوری کرے؛ منتخب شُدہ قومی اسمبلی کی اپنی مدت مکمل کرنے سے قبل کسی بھی سبب کے تحت تحلیل عبوری آئین کے تحت غیر قانونی ہو گی ما سوائے اس کے کہ جب اس کے منتخب شُدہ ممبران میں سے 2/3 اکثریت قومی اسمبلی کی تحلیل چاہتی ہو،
c) قومی اسمبلی کو اپنی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد دوبارہ انتخاب کیلئے سربراہِ مملکت کی جانب سے تحلیل کر دیا جائے گا۔ اس شق کے تمام حصوں کی مکمل طور پر وضاحت بلوچستان کے عبوری آئین میں کی جائے گی۔

شق: 49– بلوچستان کی قومی فوج ، سرمچاروں کے )مسلح بلوچ آزادی پسند تنظیموں ) مختلف گروہوں میں سے تیار کی جائے گی۔ بلوچستان کی قومی فوج منتخب شدہ سول سیاسی اتھارٹی کا ایک ماتحت ریاستی عضو ہو گی – بلوچستان کی قومی فوج کے دائرہِ کار اور منشور کی تعریف قومی اسمبلی، بلوچستان کے آئین اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہوگا ۔ یہ فوج بلوچستان کی ریاست، عدلیہ، سول معاشرے اور میڈیا کی قریبی جانچ پڑتال کے تحت اور ان کو جواب دہ ہوگی۔اس فوج کا اوّلین فریضہ بلوچستان کی علاقائی سرحدوں کا تحفظ ہو گا۔ بلوچستان کی مسلح افواج کے اراکین کیلئے ملازمت میں رہتے ہوئے سیاسی، تجارتی یا کسی قسم کی دیگر ملازمت سے متعلقہ سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی ہو گی۔

شق: 50 – بغیر لائسنس کے نجی اسلحہ اور کسی قسم کی نجی فوج رکھنا غیر قانونی ہو گا۔

شق: 51 – بیرونی قوّتوں کے بلوچستان پرغیر قانونی تسلط کا نتیجہ کرپشن اور غیر قانونی ادویات/ منشیات کے غلط استعمال، مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت،قحط، بیماریوں، وباؤں، اورمعدی امراض کے ساتھ معاشرے کی تقسیم کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔اس شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار معاشرے کی بحالی اور نسلوں پرانی رنجشوں، اختلافات، معاشی اور معاشرتی عدم مساوات کو ختم کرنے کیلئے حکومتِ بلوچستان موزوں قسم کی خود مختار کمیٹیاں تشکیل دے گی۔ یہ کمیٹیاں مختلف معاشرتی گروہوں کی معاشی فلاح اور عمومی معاشرتی ربط کو فروغ دینے کیلئے ان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کریں گی۔ تمام معاشرتی گروہوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں بااختیار بنا کر ہر ممکن کوشش کی جائے گی، تاکہ وہ مجموعی معاشرے کی مشترکہ بھلائی کیلئے کام کریں۔

حصّہ VIII
خود مختار ریاستِ بلوچستان


شق 52: کئی حصوں میں منقسم بلوچستان برطانوی سلطنت کا ترکہ ہے ، بلوچ جدوجہد آزادی کا حتمی مقصد بلوچ وطن کی منقسم علاقوں کو دوبارہ بلوچ وطن میں متحد کرکے ایک سنگل بلوچ قومی ریاست کی مکمل آزاد حیثیت کو تسلم کرانا ہے۔

شق:53 ریاستِ بلوچستان کی اوّلین ذمہ داریاں اور افعالِ کار ہیں؛ بیرونی جارحیت سے بلوچستان کا تحفظ، داخلی امن و امان برقرار رکھنا، انصاف کی فراہمی، فلاحی خدمات کی فراہمی اور بیرونی تعلقات چلانا اور برقرار رکھنا۔

شق: 54– موجودہ طور پر بلوچستان میں ایک مناسب اور قابل ِ عمل معاشرتی اور معاشی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ بلوچستان کا کمزور ڈھانچہ کئی دہائیوں کے غیر قانونی تسلط، سرمایہ کاری کی کمی اور استحصال کے سبب ہے۔ حکومتِ بلوچستان کی ایک فوری ذمہ داری ماحول کے مطابق ایک مؤثر ڈھانچہ کی منصوبہ بندی، تیاری، اس کو چلانا اور فروغ دینا ہوگی۔حکومتِ بلوچستان ایک قابلِ عمل ڈھانچہ فراہم کرے گی، اس کو مضبوط کرے گی، اس کو برقرار رکھے گی اور اس کو نظام کے تحت رکھے گی۔ اس ڈھانچہ کے سب سے اہم اجزاء ہیں رابطہ کے ذرائع ، رسد اور ذخیرہ اندوزی، توانائی کی پیداوار اور فراہمی، بجلی پہنچانا اور بجلی کی گرڈ، صاف پانی اور حفظانِ صحت کی خدمات۔ دیگر سرگرمیاں جن کو اس فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے وہ ہیں سائنس اور ٹیکنالوجی، سماجی، معاشرتی، تمدنی اور قانونی اداروں میں باقاعدگی کے ساتھ سرمایہ کاری۔ بنیادی ساخت میں یہ بہتریاں قابلِ ثبات درجہ کی معاشی ترقی کیلئے سازگار ماحول پیدا کریں گی۔ یہ چیز معیشت کے تمام شعبہ جات میں وسائل کے مؤثر انداز میں متحرک کئے جانے کو بھی یقینی بنائے گی اور فروغ دے گی۔ بلوچستان میں ایک کامیاب اور قابلِ ثبات معیشت بالاخر سول سوسائٹئ اور اس کے آپس میں جُڑے ہوئے معاشی اور سماجی ڈھانچے کے قابلِ بھروسہ ہونے پر منحصر ہو گی۔

شق: 55– بلوچستان کے تمام شہری بلوچستان کے کسی بھی حصّہ میں سفر کرنے، کسی کاروباری سرگرمی یا کام کے قیام کیلئے آزاد ہیں۔ کسی کے ساتھ بھی ان کے سفر کرنے کے حق، پیشہ کے انتخاب، کام کرنے کی جگہ اور ان کے مزدوری اور ملازمت کے حق کے حوالے سے کم تر نہیں سمجھا جائے گا۔

شق: 56– بلوچستان میں موجود تمام قدرتی وسائل بلوچستان کے لوگوں کی ملکیت ہیں۔ ان وسائل کا نظم و نسق اور اختیار ریاستِ بلوچستان کے پاس ہو گا۔ ان کا استعمال بلوچستان میں رہنے والے لوگوں کی فلاح کیلئے ہو گا ۔ کسی دوسرے ملک یا قوم کو اپنے ذاتی فائدہ اور مفاد کیلئے ان وسائل کے استحصال کا حق نہیں ہونا چاہیئے۔

شق: 57–بلوچستان سے نکالے گئے تمام قدرتی وسائل کی بلوچستان اور تمام دیگر اقوام کے مابین تجارت بین الاقوامی اور مقامی منڈی کی قیمتوں کے تحت ہو گی۔

شق: 58– حکومتِ بلوچستان سوشل سیکیورٹی کا ایک جامع نظام اور ایک فلاحی ریاست کا نظام متعارف کروانے کی ذمہ دار ہے۔ ان خدمات میں صحت کی قومی خدمات، فلاحی خدمات، اور بیماری اور بے روزگاری سے متعلقہ امداد شامل ہوں گی ۔

شق: 59– بلوچستان کی آزاد اور جمہوری ریاست بلوچستان میں موجود تمام کمزور اور بلا نمائندہ گروہوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ ان گروہوں میں بچّے، بزرگ شہری اور تمام معذور افراد شامل ہیں۔بلوچستان کی ریاست ان سماجی گروہوں کی سماجی، سیاسی اور معاشی حیثیت کو بہتر بنانے کیلئے معاشی اور سیاسی تحفظ کے حصار فراہم کرنے کی ذمہ دار ہو گی تاکہ یہ باقی آبادی کی طرح برابر کے حقوق اور مواقع سے استفادہ کر سکیں۔

شق: 60– عوامی اشیائے صرف کی مؤثر اور مناسب فراہمی حکومتِ بلوچستان کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہو گی۔ ان اشیاء کی فراہمی لازمی طور پر ایک کھلے اور شفاف انداز میں ہونا چاہیئے۔حکومت ایسی اشیاء اور خدمات کی فراہمی میں سرکاری خزانے کےغلط ہاتھوں میں جانے اور غلط استعمال کیلئے جواب دہ ہو گی۔

شق: 61– بلوچستان کی آزاد ریاست گزشتہ دہائیوں کے دوران بلوچ عوام کے خلاف تمام فریقوں کی جانب سے کئے گئے جرائم کی تفتیش کرنے کیلئے ایک کھلی اور خود مختار عدالتِ انصاف کے قیام کی ذمہ دار ہو گی۔ جو جرائم میں حصہ لینے میں شامل تھے ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ان جرائم کے متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا۔

شق: 62– بلوچستان کی آزاد ریاست اُن سابقہ قابض قوّتوں سے معاوضہ کا تقاضا کرے گی جنہوں نے بلوچستان کو لوٹا ہے اور اس کے قدرتی وسائل کو چھینا ہے۔

شق: 63– ایک آزاد اور جمہوری بلوچستان قومی، علاقائی اور عالمی امن اور معاشی خوشحالی کیلئے ادائیگیِ فرض کے انداز میں کام کرے گا۔ یہ انسانی حقوق کی ان بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ سرگرمی سے کام کرے گا جو عالمی امن کیلئے کام کر رہے ہیں۔ یہ بین الاقوامی قوانین اورضابطوں کی بالادستی پر سختی سے یقین رکھتا ہے اور اپنےتمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن میں رہنے ، ان کے حقوق کا احترام کرنے اورباہمی مفاد اور معاشی خوشحالی کے تعاقب کیلئے تعاون کی سرگرمی سےحوصلہ افزائی کرے گا۔

شق: 64–ریاست بلوچستان ان لوگوں کے اوّلین اہلِ کنبہ کی معاونت کیلئے ایک فنڈ قائم کرے گی جنہوں نے ہماری مادر وطن کی آزادی کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کی

حصّہ IX
سماج، معیشت اور ماحول


شق: 65– بلوچ زبانیں بلوچی اور براہوی بلوچستان کی قومی زبانیں ہوں گی۔ انگریزی ثانوی سرکاری زبان اور بین الاقوامی میدان میں رابطہ کاری کا ذریعہ ہو گی۔

شق: 66– بلوچستان ایک مخلوط معیشت کا کردار ادا کرے گا جہاں معیشت کے نجی، سرکاری اور رضاکار شعبہ جات بلوچستان کے شہریوں کی مشترکہ بھلائی میں اپنا کردار اد ا کرنے کیلئے یہاں کے مروجہ قوانین کے اندر رہ کر اور ان کے مطابق فعال ہو ں گے۔

شق: 67 – "ما چکیں بلوچانی" بلوچ جدوجہد آزادی کا ترانہ ہے۔ آزاد بلوچستان کے قومی ترانہ کو بلوچستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی یا بلوچستان کی قومی اسمبلی منتخب اور منظور کرے گی۔


شق: 68– بلوچ جدوجہد آزادی کا جھنڈا جو کہ بڑھتی ہوئی تعداد میں اپنایا جاتا رہا ہے تین حصّوں پر مشتمل ہے۔ مرفاع کے برابر میں ایک ستارے کے ساتھ ایک نیلے رنگ کا تکونا امتیازی نشان خصوصی علامت (یا چارج ) کے طور پر ہے ۔ تکونے امتیازی نشان سے لے کر پھریرے تک ، دو افقی پٹّیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اوپر والی افقی پٹّی سرخ ہے اور نیچے والی افقی پٹّی سبز آزاد بلوچستان کے قومی جھنڈے کا فیصلہ اور منظوری بلوچستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی یا بلوچستان کی قومی اسمبلی کرے گی۔

شق:69– آزاد بلوچستان کو اس کی ان اصل تاریخی اور جغرافیائی سیاسیات کے مطابق سرحدوں میں واپس بحال کیا جائے گا جو کہ میر نصیر خان کی خودمختار ریاست کے دور میں مقرر کی گئی تھیں۔

شق: 70– ہماری آزادی کی بحالی کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے والے ہماری آزادی کی جدوجہد کے جانثاروں کی قومی یاد منانے کا منتخب شدہ حتمی تاریخ 13 نومبر کو ہوگی۔ 1839 میں اس دن میر محراب خان اور ان کے کئی سپاہیوں نے سلطنتِ برطانیہ کی حملہ آور فوج کے خلاف بلوچستان کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کی تھیں۔

شق: 71– کوئی بھی معاشرہ دیگر جانداروں کے حقوق اور ان کی فلاح وبہبود کو جائز توجہ اور احترام دیئے بغیر انسانی اور مہذب انداز میں فعال نہیں ہو سکتا۔ ایک آزاد اور جمہوری بلوچستان میں حکومتِ بلوچستان تمام جانوروں کے ساتھ اچھی برتاؤ اور انکی حقوق کی تحفظ کو بین الاقوامی کنونشنوں اور معاہدوں کے مطابق یقینی بنائے گی۔

شق: 72– دھرتی ما ں کے بغیر ایک بھی بنی نوع انسان یا تہذیب کا ہونا ناممکن ہے۔ بلوچستان کی ریاست اور اس کے شہری اپنے قدرتی ماحول کی حفاظت، احترام اور اس کا خیال رکھنے کیلئے حتٰی المقدور سب کچھ کریں گے۔

شق: 73– آزادی حاصل کرنے کےفوراً بعد بلوچستان میں سے تمام جوہری سرگرمیوں کے خاتمے اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے فوری اقدام کیا جائے گا۔ بلوچستان میں، جوہری تجربات بلوچ عوام کی خواہشات کے برخلاف اور ان کی اجازت کے بغیر کئے گئے تھے۔ یہ پاکستان کی جانب سے بلوچستان کے پہاڑی سلسلہ راس کوہ اور ضلع چاغی میں 28 مئی 1998 میں کئے گئے تھے۔ بلوچستان کے عوام اور ان علاقوں کی ماحولیات پران تجربات کے اثرات پر اقوامِ متحدہ سےایک غیر جانبدارانہ تفتیش وتحقیق کی درخواست کی جائے گی۔ وہ علاقےجو کہ تابکاری کے زہر یلے اثرات سے آلودہ ہوئے ہیں ان کو صاف کیا جائے گا اور ماحول کو پہنچنے والے نقصان اور ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں پر شعاعوں کے اثرات کا تعین کرنے کیلئے ایک غیر جانبدار سائنسی تحقیق کی جائے گی۔ بلوچ عوام کے خلاف اس جُرم کی ذمہ دار ریاست کو جواب دہ ٹھرایا جائے گا اور بین الاقوامی نظامِ انصاف کے ذریعے انصاف کا تقاضا کیا جائے گا۔ جواب دہ ٹھہرائی گئی کسی بھی ریاست سے اس آفت سے متاثر ہونے والے افراد کو معاوضہ بھی دلوایا جائے گا ۔

شق : 74–پریشر گروپس ( رائے انداز جماعتیں ) آزاد بلوچستان کی جزو لا ینفک ہونگے۔ ان کو قانونی اور لازمی رکھوالوں اور تبدیلی کیلئے متحرک قوّتوں کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔جمہوری بلوچستا ن تغیر کو تسلیم کرتی ہے اور اس کے راسخ اصولوں کی حمایت کرتی ہے۔
.
شق: 75– کوئی معاشرہ یا قوم اپنی کام کرنے والی جفاکش اور محنتی عوام کے بغیر زندہ اور کامیاب نہیں رہ سکتے۔ایک خود مختار ریاستِ بلوچستان کے تحت ، کام کرنے کی اخلاقیات کو بلوچ تہذیب اور سماجی دستور کے اصول کے طور پر اپنایا جائے گا۔یہ اصول معیشت کے تمام شعبوں میں رہنما اصول کا کردار ادا کرے گا۔

حصّہ X
عبوری آئین


شق: 76– اس منشور کے نافذ ہو جانے کے بعد بلوچستان کے عبوری آئین کا مسودہ تیار کرنے کیلئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔اس آئین میں بلوچ عوام کے وہ حقوق اور ذمہ داریاں شامل ہوں گی جن کا تصوّر اس منشور میں پیش کیا گیا ہے۔عبوری آئین ایک جدید جمہوری ریاست کے ترقی پسند عوامل اور بلوچستان کی انوکھی تاریخ، تہذیب، حالات اور ضروریات کو یکجا کرے گا۔

شق: 77– عبوری آئین توثیق کیلئے بلوچستان کی قومی اسمبلی )بلوچستان مزنین دیوان( کو پیش کیا جائے گا۔


با شعور عاجزی و انکساری ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ اس لیےہم یہ نہیں کہتے کہ یہ دستاویز عقل کل ہے۔ یہ کوئی عالمی ہدایت نامہ یا تمام ادوار اور مقامات کے لیے نسخہ نہیں ہے۔ یہ صرف بلوچ عوام کو لاینفک جمہوری حقوق برائے آزادی و خود مختاری واپس دلانے کا ایک منصوبہ اور راہنما دستاویز ہے۔




The comments are owned by the author. We aren't responsible for their content.
Author Thread